کچھ پینتیس چالیس برس سے قبل تک فیشن کی بیماری امیر زادوں کے لئے مخصوص تصور کی جاتی تھی، پھر طبقۂ شرفاء بھی اس عارضے میں مبتلا نظر آنے لگا اور ’’فیشن‘‘ کی جگہ ’’ماڈرن‘‘ کا لفظ مستعمل ہوا اور اب تو یہ حال ہے کہ خاکروب اور کنڈیکٹر بھی پینٹ شرٹ کے بغیر باہر نکلتے ہوئےعار محسوس کرتے ہیں۔ شلوار قمیص صرف رات سونے کے لئے مجبوراً استعمال ہوتا ہے کہ آرام کے لئے آرام دہ لباس ضروری ہے مگر اب کم بخت ’’شارٹ‘‘ اور ’’ٹراؤزر‘‘ نے یہاں بھی شلوار قمیص پہ شب خون مارا۔
ایسا نہیں ہے کہ میں پینڈو ہوں ہاں البتہ پیدا ضرور گاؤں میں ہوا لیکن چھ
ماہ کی عمر میں کراچی چلا گیا، ایک سال وہاں کی سیر کے بعد لاہور آیا اور
مزید ایک سال بعد پنڈی رہائش پذیر ہوا۔ جب میں چھ سال کا تھا تو والد صاحب
کو اسلام آباد میں آبپارہ کے پاس ایک سرکاری مکان مل گیا اور ہم فیڈرل
سٹیزن شپ کے حامل قرار پائے۔ غالباًمیری عمر کوئی سات برس اور چھوٹا بھائی لگ بھگ پانچ برس کا ہو گا کہ ہمیں والد صاحب نے سلیٹی رنگ کے چیک کے کپڑےکے، جس پر سفید اور کالے رنگ میں جمع کے نشان (+) بنے تھے، سفاری سوٹ سلوا کر دیے۔ ہمارا پتلون اور بش شرٹ سے پہلا تعارف تھا لہٰذا شرم ایک فطری بات تھی۔ میں نے تو اپنی پتلون کو ہاتھ بھی یوں لگایا جیسے دلہا اپنی برانڈ نیو دلہن کو پہلی بار چھوتا ہےاور پھر اسی بےخودی و وارفتگی کے عالم میں اسے چاروں اَور سے گھوم گھوم کے اور جھوم جھوم کے دیکھا۔ پتلون کے انداز بھی کچھ کم دلبرانہ نہ تھے۔ جیسے ہی پہنی، وہ والہانہ انداز میں ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ یہ عجب ہوئی، میں ایک طرف سے اسے ٹانگوں سے جدا کروں تو وہ لپک کر دوسری طرف سے چپک جائے اس پر سہاگہ یہ کہ بش شرٹ اس سے بھی نرالی یعنی اگر سر میں خارش ہوئی ہے تو ہاتھ کی آخری حد کان تک ہے۔ نئے کپڑے کی ایک الگ ہی سرمستی اور گدگدی ہوتی ہے چنانچہ گردن سے بالشت بھر نیچے مجھے ایسی ہی کسی سرگرمی کا احساس ہوا اور کھجانے کی کوشش میں بش شرٹ کو سینے کے دوسرے بٹن کی جدائی کا صدمہ جھیلنا پڑا۔ کچھ سمجھ نہ آیا کہ یہ ہمارا ہی پہلا تجربہ تھا یا درزی کا بھی پہلا ہی تجربہ تھا؟
اب والدہ کی فرمائش کہ باہر جاؤ (کہ دنیا میرے لال کو پیلا ہوتے دیکھے) لیکن حیا اس حکم کی سرتابی پہ اکسائے اور میں لاشعوری طور پر ہاتھ پشت پر باندھ لوں۔ عجب کشمکش کا عالم کیونکہ باہر دوست انتظار میں ہوں گے اور اس حال میں دیکھ کر خوب پھبتیاں کسیں گے۔ چھوٹے بھائی نے بہادری دکھائی اور ایک شانِ بے نیازی سے باہر نکل کر ویسپا کے ٹائر کو ڈنڈے سے گھمانے لگا (غالباً کنڈیکٹروں کے حوصلے یہیں سے بلند ہوئے یعنی ’’الزام ان کو دیتے تھے، قصور اپنا نکل آیا‘‘۔ میرے ہم عمروں نے کہلا بھیجا کہ بھائی باہر آؤکہ کھیل کا وقت نکلا جاتا ہے۔ جانا بھی ضروری تھا کہ کھیل کے لوازمات کے اخراجات کی مد میں ایک روپیہ بھی صرف کیا تھا اور اس وقت تک کرکٹ کا کھیل پسند بھی بہت تھا لہٰذا ناچار باہر نکلے اور نکلتے ہی دوستوں کی شوخیوں کا نشانہ بنے، خیر وہ ناگفتنی لکھنے کی یہ جا نہیں۔
گھر سے میدان تک کا سفر اسی سوچ میں گزرا کہ ’’اس لباس میں آخر کیونکر کھیل سکوں گا، بھاگوں گا کیسے اور بلےبازی تو نہایت شرمناک فعل ہو گا، نہ بابا آج بیٹنگ تو بالکل نہیں کروں گا۔‘‘ چشمِ تصوّر سے اپنے مختلف پوز دیکھتا رہا اور شرماتا، لجاتا رہا۔ دوست جو میدان میں جاتے ہوئے ہمیشہ آگے ہوتے تھے، آج کبھی آگے ہوتے اور کبھی پیچھے۔ میری چال میں کبھی لنگڑاہت آجاتی، کبھی بادِ نسیم کی طرح سبک، کبھی مخمور انداز میں قدم بہکتے اور کبھی کسی ناگن کی طرح بَل کھاتی چال کا گمان گزرتا۔ دو ایک بار تو کسی نازک اندام حسینہ کی اٹھلاتی چال سے مشابہت کا احساس ہوا تو میں دیوار سے ٹیک لگا کر ہانپنے لگا، دھڑکن خواہ مخواہ ہی تیز ہو گئی میدان تک کا فاصلہ ختم ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔ میدان میں پہنچے تو مخالف ٹیم کے تو قفرے ہی جدا تھے۔ آج کے دن کے لئے طرح طرح کی پیشین گوئیاں کی جانے لگیں۔ کسی نے کہا ایمپائر بنا دو، کسی نے اکلوتا تماشائی کہا، ایک نے تو علامہ اقبال کی روح بھی کہہ دیا۔ خیرہمارے حصے میں فیلڈنگ پہلے آئی اور مجھے باؤنڈری کے قریب کھڑے ہونے کا حکم ملاتو دل کو بہت کچھ سکون ملا۔ پہلے ہی اوور میں اوپنر نے چھکے کی کوشش کر ڈالی جسے میں نے بڑی چابکدستی اور جانفشانی سے کیچ کر کے آؤٹ کا رنگ دیا جس کے لئے مجھے ایک جمپ لینا پڑا۔ سب ساتھی شاباش دینے آئے تو ایک نے یہ خبر بھی دی کہ اچھلتے وقت تیری ’’ڈھڈی‘‘ نظر آ رہی تھی اور سب ہنسنے لگے۔ مرا فخر اور خوشی شرم کے گھڑوں پانی سے گیلی ہو گئی چنانچہ میچ کے باقی دورانیہ میں دشمن کےکسی بھی زمینی یا فضائی حملے کو میں نہ روک سکا اور ہم میچ ہار گئے۔ واپسی پر بھی میری کارگزاری اور میرا لباس ہی زیرِ عتاب رہا۔
گھر آیا تو چھوٹی بہن جو مجھے بہت پیاری تھی اور تین برس کی تھی، کو والدہ نے اٹھایا ہوا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی والدہ نے کہا کہ اسے اٹھاؤ تا کہ میں کچھ کام کر سکوں۔ میں نے بانہیں پھیلا کے اسے پیار سے بلایا تو اس نے اجنبی اور خشمگیں نظروں سے پہلے مجھے اور پھر میرے لباس کو دیکھا اور گھوم کر والدہ سے لپٹ گئی۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے اٹھا لیا لیکن وہ رونے لگی تو امی نے اسے واپس اٹھا لیا اور مجھے لباس تبدیل کرنے کو کہا۔ شلوار قمیص پہن کر آیا تو چھوٹی بہن دوڑتی ہوئی میرے پاس آئی اور میری انگلی پکڑ کر باہر کھینچنے لگی۔ اب مجھے سمجھ آئی کہ قصور کس کا ہے۔
اب میرا زیادہ تر وقت اس مشاہدہ میں گزرنے لگا کہ کون کون پتلون اور بش شرٹ پہنتا ہےاور کیسا لگتا ہے؟ حیرت ہوئی کہ کافی لوگ یہ لباس استعمال کرتے ہیں اور کئی تو سکول اور دفتر بھی پہن کر جاتے ہیں۔ پھر ایک دن یہ حیرت اپنی انتہا کو پہنچی کہ آبپارہ مارکیٹ میں ایک لڑکی کو جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ میں دیکھا مگر خلافِ معمول وہ مجھے اس لباس میں کافی اچھی لگی اور کن اکھیوں سے میں نے اسے کئی بار دیکھا۔ اگرچہ وہ بھی میری ہی طرح کم عمر تھی مگر اچھی لگ رہی تھی۔ اب اس میں راز کیا ہے، یہ میں نہیں جانتا مگر یہ خیال ایک عمر تک دل سے نہ نکل سکا کہ خواتین اس لباس میں کچھ زیادہ ہی دل فریب نظر آتی ہیں بلکہ دل نے یہ بدخیالی پلے باندھ لی کہ کسی ایسی ہی لڑکی سے شادی کروں گا جو نیلے رنگ کی جینز پہنتی ہو جس پر پیلے رنگ کی موٹی ڈوری کی سلائی ہو، ٹی شرٹ سرخ رنگ کی پہنتی ہو اور اس پر نیلی جینز کی جیکٹ جس کی پشت پر اڑتا ہوا عقاب بنا ہو، پاؤں میں سفید جوگرز اور ڈیڑھ دو فٹ لمبے بال جو سیدھے اور کھلے ہوں، ہائے۔
’’نیرنگیٔ قسمتِ دوراں تو دیکھیئے‘‘ کہ جن خاتون سے شادی ہوئی وہ محترمہ سوائے سوتی کپڑوں کے اور کوئی کپڑا پسند ہی نہیں کرتیں کہ ریشم یا جارجٹ یا اسی قبیل کے دوسرے کپڑے پہننے سے انہیں خارش شروع ہو جاتی ہے، بالوں کو وہ ہمیشہ تین بَل میں باندھ کر رکھتی ہیں، جوگرز پہننے سے انگلیوں کے درمیان زخم ہو جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آپ اندازہ تو کر ہی سکتے ہوں گے کہ اس دلِ پُر فگار پر کیا کیا صدمے نہ گزرے ہوں گے یہ روح فرسانیاں سن کر۔ لیکن ایک دن ہم نے بھی دل کے ارمان نکالنے کی ٹھان لی اور اپنی ایک پتلون بیگم کو چھوٹی کرنے کو کہا۔ وہ حیران تو ہوئیں مگر کر دی۔ ایک جوڑا جوگرز کا بندوبست کیا۔ ایک پرانی جیکٹ بھی پڑی تھی۔ ایک دن موقع پا کر کہ مالک مکان گھر میں نہ تھے، بیگم سے فرمائش کی کہ ذرا یہ لباس تو پہن کر دکھاؤ اور یہ جوگر بھی اور یہ جیکٹ بھی۔ انہوں نے بیک وقت گھبراہٹ اور احتجاج کا سہارا لیا مگر ہم نے بھی جان نہ چھوڑی۔ اب جو وہ اس لباس میں باہر آئی ہیں تو مجھے اپنا بچپن یاد آگیا۔ وہ بھی بالکل اسی انداز میں کبھی پتلون ٹھیک کرتی ہیں، کبھی جیکٹ کا کالر انہیں چبھنے لگتا ہے اور کبھی وہ جیکٹ کو کھینچ کر مزید لمبا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہم نے اپنی آنکھوں میں ستائش کو جگہ دینے کی کوشش کی، ہر چند کہ انہیں گھوم گھوم کر بار بار پیار بھری نظروں سے دیکھا مگر وہ ہمیں ویسی ’’دل فریب‘‘ نظر نہ آئیں، نہ جانے کیوں؟
الحمدللہ، اللہ تعالیٰ کا مجھ پر ہمیشہ بہت فضل و کرم رہا ہے۔ رفتہ رفتہ میرے ذہن نے ’’کیوں؟‘‘ کے جواب تلاش کرنا شروع کیے اور جوابات یا انکشافات ہمیشہ ہی میرے لئے باعثِ رہنمائی رہے۔ یہاں میں اس تحریر کے مقصد کی طرف آتا ہوں اور ایک منظر نامہ پیش کرتا ہوں۔ یہ ایک تقابلی جائزہ ہےاسلام اور ماڈرن ازم یا فیشن کے درمیان اور مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ ہمارے دشمن کس تندہی اور مکاری سے ہمارے خلاف کار فرما ہیں اور ہم سب نہایت سادہ دلی اور بیوقوفی سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر نہ صرف اس کے جال ( جو کہ در حقیقت شیطان کا جال ہے) میں پھنستے جا رہے ہیں بلکہ اس کام میں اس دشمن (جو اللہ کا دشمن ہے) کے ممد و معاون بھی ہیں۔ قرآنِ حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اللہ کے رسول کا طرزِ زندگی تمھارے لئے بہترین نمونہ ہے‘‘۔ یعنی جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے حبیبؐ کی حیاتِ طیبہ کے مطابق گزارنی ہو گی، تب ہی وہ روزِ محشر اللہ تعالیٰ سےمغفرت و بخشش کا طلبگار ہو سکتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کا مستحق ٹھہر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ یہود و نصٰرٰی کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ پتا نہیں کہ یہ بات ہمیں کیوں سمجھ نہیں آتی؟ نبی کریم ﷺ کا حکم ہے کہ دوسری قوموں کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ ہم نے فروعی مسائل کے جھانسے میں نئے نئے راستے کیوں اختیار کر لئے؟ موازنہ پیشِ خدمت ہے:
اسلام: بچے کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرو۔ یہاں مراد صرف قرآن و حدیث کا علم نہیں ہے بلکہ تمام عصری علوم بھی ہیں مگر حکم یہ ہے کہ سب کچھ اسلام کے زیرِ اثر ہو۔
ماڈرن ازم: کو ایجوکیشن سسٹم، سب کچھ انگریزی میں، کلچر بھی مغربی، لباس بھی مغربی، ماحول بھی مغربی، زبان بھی مغربی اور ہیں مسلمان؟ کتنے لوگ قرآن کی زبان عربی سمجھ، بول اور لکھ سکتے ہیں اور کتنے لوگ انگریزی سمجھ، بول اور لکھ سکتے ہیں، یہ فرق آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔عربی تو کجا ہمیں تو درست انداز میں اردو بھی نہیں آتی۔ ہمارے ہاں تعلیمی ادارے کا ماحول جتنا مغربی ہو گا وہ اسی قدر اہم اور مشہور اور مہنگا ہو گا اور ہم حرام کما کر بھی اس کے اخراجات برداشت کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیا یہ بھٹکنا نہیں ہے؟ طرہ یہ کہ ایسے بچے سے ہم یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ وہ ہماری خدمت بھی کرے گا اور آخرت میں ہمارے لئے باعثِ نجات بھی ہوگا؟
اسلام: عشاء پڑھ کر سو جاؤ اور فجر کے وقت اٹھ جاؤ۔ یعنی دن کام کے لئے اور رات آرام کے لئے ہے۔ سیرت طیبہ اس عمل کی گواہ ہے اور اللہ پاک بھی بار بار قرآن پاک میں ذکر فرماتے ہیں کہ کیا تم سورج اور چاند کو نہیں دیکھتے؟ ان الفاظ میں ایک مفہوم یہ بھی پنہاں ہے۔
ماڈرن ازم: سونے کے وقت جاگو اور جاگنے کے وقت سو جاؤ۔ مجھے اس بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، آپ سب جانتے ہیں کہ آج ہمارے معمولات کیا ہیں؟ اور اپنی جہالت پہ قائم رہنے کے لئے ہمارے پاس دلائل کیا ہیں؟
اسلام: ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جبرائیلؑ نے بار بار مسواک کا اس قدر حکم دیا کہ مجھے محسوس ہوا کہ میرے مسوڑھے مسواک کرتے کرتے زخمی ہو جائیں گے۔
ماڈرن ازم: دشمنوں نے اس کا نعم البدل برش نکالا اور نہ صرف خود استعمال کیا بلکہ ہمیں بھی بہکایا۔ ہم آج یہ کہہ کر مسواک سے اجتناب کرتے ہیں کہ اس سے منہ کی بدبو زائل نہیں ہوتی، پیسٹ سے ہو جاتی ہے لیکن اتنی توفیق نہیں ہے کہ مسواک کر کے تو دیکھیں، جو نتیجہ نکلے اس پر کاربند ہوں۔ نعوذبااللہ خالق کی بات نہیں مانیں گے، کافروں کی مان لیں گے؟
اسلام: رسول اللہ ﷺ اکثر زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔
ماڈرن ازم: ہم یورپ و امریکہ کی تقلید میں میز اور کرسی پر بیٹھ کر یا آرام کی خاطر بستر پر بیٹھ کر کھانا پسند کرتے ہیں حالانکہ بستر پر بیٹھ کر اور ٹیک لگا کر کھانے یا لیٹ کر کھانے سے منع فرمایا گیا ہے۔ اگر آپ کو شک ہو تو آپ احادیث یا سیرت کی کتب کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔اسی طرح شادی کی تقاریب میں کھڑے ہو کر کھانا فیشن کا حصہ ہے اور اگر کوئی ہال میں بیٹھ جائے تو اسے عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور معیوب لفظوں سے یاد کیا جاتا ہے۔ تو دوستو، معیوب کیا ہے؟
اسلام: کھانا داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور کم از کم چار انگلیاں کھانے کو چھوئیں۔کھانے کے بعد انگلیاں چوس لو۔
ماڈرن ازم: کانٹا (تین انگلیوں والا)، چھری اور چمچ کی مثال آپ کے سامنے ہے اور چمچ تو ہر گھر میں کئی کئی استعمال ہوتے ہیں۔ اور اختتام کے لئے ٹشو موجود ہے انگلیاں صاف کرنے کے لئے۔ میں نے ایک مانگنے والی کو دیکھا جس کا بچہ چاول کھا رہا تھا۔ کھانے کے اختتام پر اس نے اپنی پوٹلی میں سے ایک مڑا تڑا ٹشو نکالا، اپنے ہاتھ صاف کیے، بچے کے ہا تھ صاف کیے اور پھر اس کی نوزی صاف کر کے ٹشو واپس پوٹلی میں رکھ دیا۔ یہ ہے دشمن کی فتح۔
اسلام: رسول اللہ ﷺ کا تہبند ہمیشہ ٹخنوں سے اونچا ہوتا اور قمیص گھٹنوں سے نیچے تک۔
ماڈرن ازم: انگریزی لباس آپ سب کا دیکھا بھالا ہے جو کہ اس سنت کے بالکل مخالف ہے اور اب تو بات کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔
اسلام: نبی کریم ﷺ کھجور کے پتوں کی چٹائی پر سوتے تھے یا زمین پر چادر بچھا لیتے۔
ماڈرن ازم: آج ڈبل بیڈ اور میٹرس کے بغیر نیند کی دیوی مہربان ہی نہیں ہوتی۔ ایک دوست نے تو چارپائی پر ہی میٹرس ڈالا ہوا ہے اور زمین پر میٹرس ڈالنے کا تو عام رواج ہے۔ اگر آپ جاپانیوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو وہاں آج بھی عمومی زندگی میں لکڑی کے پھٹے پر سونے کا رواج ہے۔
اسلام: سادہ اور پاکیزہ زندگی اختیار کرو۔
ماڈرن ازم: سادگی اور پاکیزگی کے تو مفہوم سے بھی کم ہی لوگ آگاہ ہوں گے ہاں البتہ ہم صاف ستھرے ضرور نظر آنا چاہتے ہیں اور خوبصورت نظر آنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ خود سوچیئے جہاں انگلش کموڈ اور کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی غلاظتیں موجود ہوں، وہاں پاکیزگی کا کیا تصور ہو گا؟ جہاں لوگ مسجد کے امام سے اپنی عمومی زندگی کے مسائل پوچھتے ہوں، وہ کتنے باعمل مسلمان ہوں گے؟ آج اگر ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آتی تو دشمن نے اس کا بھی انتظام کر دیا ہے۔ انگریزی لکھائی اور ہندی زبان میں انگلش فلمیں، کارٹون، نظمیں اور اسی طرح کا اناپ شناپ بکثرت موجود ہے جس سے اکثرت مستفید ہوتی ہے لیکن سچ بتانا کہ اتنی کوشش اور لگن سے قرآنِ مجید کا ترجمہ و تفسیر کون کون پڑھتا ہے اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کتنے گھروں میں موجود ہیں؟
ایسی بے شمار باتیں ہیں جو میں سوچتا ہوں اس کے علاوہ بھی نہ جانے کیا کیا کچھ مگر
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی؟
آخر میں ایک گزارش کہ خواتین کا خاص خیال رکھیں ( وہ تو آپ رکھتے ہی ہیں، میں جانتا ہوں لیکن میں گھر کی خواتین کی بات کر رہا ہوں) ان کے لئے قرآن و حدیث کا علم بہم پہنچائیں کہ کل آپ کو اس کا جواب دینا ہے چاہے آپ باپ ہیں، شوہر ہیں، بھائی ہیں یا پھر بیٹا۔ خواتین کے حقوق کے بارے میں اسلام میں بے شمار وعیدیں آئیں ہیں۔ اگر دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں سربراہ بنایا ہے تو کل اس سربراہی کا جواب بھی طلب کیا جائے گا۔ اپنا حساب تو دیں گے ہی، ان کا بھی دینا پڑے گا جو ہمارے ذمہ ہیں۔ سو دوستو، ان کے ایمان اور صحت کا بھی خیال رکھیں اور اپنے بچوں کے مستقبل اور آخرت کا بھی۔
اسی فکر میں غلطاں کسی شاعر نے بہت خوبصورت طنز کیا ہے:
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
(مجھے دقیانوسی نہ سمجھئے بلکہ اس بات کو یوں لیجیئے کہ طوفان سے پہلے ہی بند باندھے جاتے ہیں، طوفان آنے پر تو صرف تماشا دیکھا جاتا ہے اور یہ تماشا بھی صرف وہی دیکھ سکتا ہے جو طوفان سے باہر ہو)
اب والدہ کی فرمائش کہ باہر جاؤ (کہ دنیا میرے لال کو پیلا ہوتے دیکھے) لیکن حیا اس حکم کی سرتابی پہ اکسائے اور میں لاشعوری طور پر ہاتھ پشت پر باندھ لوں۔ عجب کشمکش کا عالم کیونکہ باہر دوست انتظار میں ہوں گے اور اس حال میں دیکھ کر خوب پھبتیاں کسیں گے۔ چھوٹے بھائی نے بہادری دکھائی اور ایک شانِ بے نیازی سے باہر نکل کر ویسپا کے ٹائر کو ڈنڈے سے گھمانے لگا (غالباً کنڈیکٹروں کے حوصلے یہیں سے بلند ہوئے یعنی ’’الزام ان کو دیتے تھے، قصور اپنا نکل آیا‘‘۔ میرے ہم عمروں نے کہلا بھیجا کہ بھائی باہر آؤکہ کھیل کا وقت نکلا جاتا ہے۔ جانا بھی ضروری تھا کہ کھیل کے لوازمات کے اخراجات کی مد میں ایک روپیہ بھی صرف کیا تھا اور اس وقت تک کرکٹ کا کھیل پسند بھی بہت تھا لہٰذا ناچار باہر نکلے اور نکلتے ہی دوستوں کی شوخیوں کا نشانہ بنے، خیر وہ ناگفتنی لکھنے کی یہ جا نہیں۔
گھر سے میدان تک کا سفر اسی سوچ میں گزرا کہ ’’اس لباس میں آخر کیونکر کھیل سکوں گا، بھاگوں گا کیسے اور بلےبازی تو نہایت شرمناک فعل ہو گا، نہ بابا آج بیٹنگ تو بالکل نہیں کروں گا۔‘‘ چشمِ تصوّر سے اپنے مختلف پوز دیکھتا رہا اور شرماتا، لجاتا رہا۔ دوست جو میدان میں جاتے ہوئے ہمیشہ آگے ہوتے تھے، آج کبھی آگے ہوتے اور کبھی پیچھے۔ میری چال میں کبھی لنگڑاہت آجاتی، کبھی بادِ نسیم کی طرح سبک، کبھی مخمور انداز میں قدم بہکتے اور کبھی کسی ناگن کی طرح بَل کھاتی چال کا گمان گزرتا۔ دو ایک بار تو کسی نازک اندام حسینہ کی اٹھلاتی چال سے مشابہت کا احساس ہوا تو میں دیوار سے ٹیک لگا کر ہانپنے لگا، دھڑکن خواہ مخواہ ہی تیز ہو گئی میدان تک کا فاصلہ ختم ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔ میدان میں پہنچے تو مخالف ٹیم کے تو قفرے ہی جدا تھے۔ آج کے دن کے لئے طرح طرح کی پیشین گوئیاں کی جانے لگیں۔ کسی نے کہا ایمپائر بنا دو، کسی نے اکلوتا تماشائی کہا، ایک نے تو علامہ اقبال کی روح بھی کہہ دیا۔ خیرہمارے حصے میں فیلڈنگ پہلے آئی اور مجھے باؤنڈری کے قریب کھڑے ہونے کا حکم ملاتو دل کو بہت کچھ سکون ملا۔ پہلے ہی اوور میں اوپنر نے چھکے کی کوشش کر ڈالی جسے میں نے بڑی چابکدستی اور جانفشانی سے کیچ کر کے آؤٹ کا رنگ دیا جس کے لئے مجھے ایک جمپ لینا پڑا۔ سب ساتھی شاباش دینے آئے تو ایک نے یہ خبر بھی دی کہ اچھلتے وقت تیری ’’ڈھڈی‘‘ نظر آ رہی تھی اور سب ہنسنے لگے۔ مرا فخر اور خوشی شرم کے گھڑوں پانی سے گیلی ہو گئی چنانچہ میچ کے باقی دورانیہ میں دشمن کےکسی بھی زمینی یا فضائی حملے کو میں نہ روک سکا اور ہم میچ ہار گئے۔ واپسی پر بھی میری کارگزاری اور میرا لباس ہی زیرِ عتاب رہا۔
گھر آیا تو چھوٹی بہن جو مجھے بہت پیاری تھی اور تین برس کی تھی، کو والدہ نے اٹھایا ہوا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی والدہ نے کہا کہ اسے اٹھاؤ تا کہ میں کچھ کام کر سکوں۔ میں نے بانہیں پھیلا کے اسے پیار سے بلایا تو اس نے اجنبی اور خشمگیں نظروں سے پہلے مجھے اور پھر میرے لباس کو دیکھا اور گھوم کر والدہ سے لپٹ گئی۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے اٹھا لیا لیکن وہ رونے لگی تو امی نے اسے واپس اٹھا لیا اور مجھے لباس تبدیل کرنے کو کہا۔ شلوار قمیص پہن کر آیا تو چھوٹی بہن دوڑتی ہوئی میرے پاس آئی اور میری انگلی پکڑ کر باہر کھینچنے لگی۔ اب مجھے سمجھ آئی کہ قصور کس کا ہے۔
اب میرا زیادہ تر وقت اس مشاہدہ میں گزرنے لگا کہ کون کون پتلون اور بش شرٹ پہنتا ہےاور کیسا لگتا ہے؟ حیرت ہوئی کہ کافی لوگ یہ لباس استعمال کرتے ہیں اور کئی تو سکول اور دفتر بھی پہن کر جاتے ہیں۔ پھر ایک دن یہ حیرت اپنی انتہا کو پہنچی کہ آبپارہ مارکیٹ میں ایک لڑکی کو جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ میں دیکھا مگر خلافِ معمول وہ مجھے اس لباس میں کافی اچھی لگی اور کن اکھیوں سے میں نے اسے کئی بار دیکھا۔ اگرچہ وہ بھی میری ہی طرح کم عمر تھی مگر اچھی لگ رہی تھی۔ اب اس میں راز کیا ہے، یہ میں نہیں جانتا مگر یہ خیال ایک عمر تک دل سے نہ نکل سکا کہ خواتین اس لباس میں کچھ زیادہ ہی دل فریب نظر آتی ہیں بلکہ دل نے یہ بدخیالی پلے باندھ لی کہ کسی ایسی ہی لڑکی سے شادی کروں گا جو نیلے رنگ کی جینز پہنتی ہو جس پر پیلے رنگ کی موٹی ڈوری کی سلائی ہو، ٹی شرٹ سرخ رنگ کی پہنتی ہو اور اس پر نیلی جینز کی جیکٹ جس کی پشت پر اڑتا ہوا عقاب بنا ہو، پاؤں میں سفید جوگرز اور ڈیڑھ دو فٹ لمبے بال جو سیدھے اور کھلے ہوں، ہائے۔
’’نیرنگیٔ قسمتِ دوراں تو دیکھیئے‘‘ کہ جن خاتون سے شادی ہوئی وہ محترمہ سوائے سوتی کپڑوں کے اور کوئی کپڑا پسند ہی نہیں کرتیں کہ ریشم یا جارجٹ یا اسی قبیل کے دوسرے کپڑے پہننے سے انہیں خارش شروع ہو جاتی ہے، بالوں کو وہ ہمیشہ تین بَل میں باندھ کر رکھتی ہیں، جوگرز پہننے سے انگلیوں کے درمیان زخم ہو جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آپ اندازہ تو کر ہی سکتے ہوں گے کہ اس دلِ پُر فگار پر کیا کیا صدمے نہ گزرے ہوں گے یہ روح فرسانیاں سن کر۔ لیکن ایک دن ہم نے بھی دل کے ارمان نکالنے کی ٹھان لی اور اپنی ایک پتلون بیگم کو چھوٹی کرنے کو کہا۔ وہ حیران تو ہوئیں مگر کر دی۔ ایک جوڑا جوگرز کا بندوبست کیا۔ ایک پرانی جیکٹ بھی پڑی تھی۔ ایک دن موقع پا کر کہ مالک مکان گھر میں نہ تھے، بیگم سے فرمائش کی کہ ذرا یہ لباس تو پہن کر دکھاؤ اور یہ جوگر بھی اور یہ جیکٹ بھی۔ انہوں نے بیک وقت گھبراہٹ اور احتجاج کا سہارا لیا مگر ہم نے بھی جان نہ چھوڑی۔ اب جو وہ اس لباس میں باہر آئی ہیں تو مجھے اپنا بچپن یاد آگیا۔ وہ بھی بالکل اسی انداز میں کبھی پتلون ٹھیک کرتی ہیں، کبھی جیکٹ کا کالر انہیں چبھنے لگتا ہے اور کبھی وہ جیکٹ کو کھینچ کر مزید لمبا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہم نے اپنی آنکھوں میں ستائش کو جگہ دینے کی کوشش کی، ہر چند کہ انہیں گھوم گھوم کر بار بار پیار بھری نظروں سے دیکھا مگر وہ ہمیں ویسی ’’دل فریب‘‘ نظر نہ آئیں، نہ جانے کیوں؟
الحمدللہ، اللہ تعالیٰ کا مجھ پر ہمیشہ بہت فضل و کرم رہا ہے۔ رفتہ رفتہ میرے ذہن نے ’’کیوں؟‘‘ کے جواب تلاش کرنا شروع کیے اور جوابات یا انکشافات ہمیشہ ہی میرے لئے باعثِ رہنمائی رہے۔ یہاں میں اس تحریر کے مقصد کی طرف آتا ہوں اور ایک منظر نامہ پیش کرتا ہوں۔ یہ ایک تقابلی جائزہ ہےاسلام اور ماڈرن ازم یا فیشن کے درمیان اور مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ ہمارے دشمن کس تندہی اور مکاری سے ہمارے خلاف کار فرما ہیں اور ہم سب نہایت سادہ دلی اور بیوقوفی سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر نہ صرف اس کے جال ( جو کہ در حقیقت شیطان کا جال ہے) میں پھنستے جا رہے ہیں بلکہ اس کام میں اس دشمن (جو اللہ کا دشمن ہے) کے ممد و معاون بھی ہیں۔ قرآنِ حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اللہ کے رسول کا طرزِ زندگی تمھارے لئے بہترین نمونہ ہے‘‘۔ یعنی جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے حبیبؐ کی حیاتِ طیبہ کے مطابق گزارنی ہو گی، تب ہی وہ روزِ محشر اللہ تعالیٰ سےمغفرت و بخشش کا طلبگار ہو سکتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کا مستحق ٹھہر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ یہود و نصٰرٰی کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ پتا نہیں کہ یہ بات ہمیں کیوں سمجھ نہیں آتی؟ نبی کریم ﷺ کا حکم ہے کہ دوسری قوموں کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ ہم نے فروعی مسائل کے جھانسے میں نئے نئے راستے کیوں اختیار کر لئے؟ موازنہ پیشِ خدمت ہے:
اسلام: بچے کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرو۔ یہاں مراد صرف قرآن و حدیث کا علم نہیں ہے بلکہ تمام عصری علوم بھی ہیں مگر حکم یہ ہے کہ سب کچھ اسلام کے زیرِ اثر ہو۔
ماڈرن ازم: کو ایجوکیشن سسٹم، سب کچھ انگریزی میں، کلچر بھی مغربی، لباس بھی مغربی، ماحول بھی مغربی، زبان بھی مغربی اور ہیں مسلمان؟ کتنے لوگ قرآن کی زبان عربی سمجھ، بول اور لکھ سکتے ہیں اور کتنے لوگ انگریزی سمجھ، بول اور لکھ سکتے ہیں، یہ فرق آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔عربی تو کجا ہمیں تو درست انداز میں اردو بھی نہیں آتی۔ ہمارے ہاں تعلیمی ادارے کا ماحول جتنا مغربی ہو گا وہ اسی قدر اہم اور مشہور اور مہنگا ہو گا اور ہم حرام کما کر بھی اس کے اخراجات برداشت کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیا یہ بھٹکنا نہیں ہے؟ طرہ یہ کہ ایسے بچے سے ہم یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ وہ ہماری خدمت بھی کرے گا اور آخرت میں ہمارے لئے باعثِ نجات بھی ہوگا؟
اسلام: عشاء پڑھ کر سو جاؤ اور فجر کے وقت اٹھ جاؤ۔ یعنی دن کام کے لئے اور رات آرام کے لئے ہے۔ سیرت طیبہ اس عمل کی گواہ ہے اور اللہ پاک بھی بار بار قرآن پاک میں ذکر فرماتے ہیں کہ کیا تم سورج اور چاند کو نہیں دیکھتے؟ ان الفاظ میں ایک مفہوم یہ بھی پنہاں ہے۔
ماڈرن ازم: سونے کے وقت جاگو اور جاگنے کے وقت سو جاؤ۔ مجھے اس بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، آپ سب جانتے ہیں کہ آج ہمارے معمولات کیا ہیں؟ اور اپنی جہالت پہ قائم رہنے کے لئے ہمارے پاس دلائل کیا ہیں؟
اسلام: ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جبرائیلؑ نے بار بار مسواک کا اس قدر حکم دیا کہ مجھے محسوس ہوا کہ میرے مسوڑھے مسواک کرتے کرتے زخمی ہو جائیں گے۔
ماڈرن ازم: دشمنوں نے اس کا نعم البدل برش نکالا اور نہ صرف خود استعمال کیا بلکہ ہمیں بھی بہکایا۔ ہم آج یہ کہہ کر مسواک سے اجتناب کرتے ہیں کہ اس سے منہ کی بدبو زائل نہیں ہوتی، پیسٹ سے ہو جاتی ہے لیکن اتنی توفیق نہیں ہے کہ مسواک کر کے تو دیکھیں، جو نتیجہ نکلے اس پر کاربند ہوں۔ نعوذبااللہ خالق کی بات نہیں مانیں گے، کافروں کی مان لیں گے؟
اسلام: رسول اللہ ﷺ اکثر زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔
ماڈرن ازم: ہم یورپ و امریکہ کی تقلید میں میز اور کرسی پر بیٹھ کر یا آرام کی خاطر بستر پر بیٹھ کر کھانا پسند کرتے ہیں حالانکہ بستر پر بیٹھ کر اور ٹیک لگا کر کھانے یا لیٹ کر کھانے سے منع فرمایا گیا ہے۔ اگر آپ کو شک ہو تو آپ احادیث یا سیرت کی کتب کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔اسی طرح شادی کی تقاریب میں کھڑے ہو کر کھانا فیشن کا حصہ ہے اور اگر کوئی ہال میں بیٹھ جائے تو اسے عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور معیوب لفظوں سے یاد کیا جاتا ہے۔ تو دوستو، معیوب کیا ہے؟
اسلام: کھانا داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور کم از کم چار انگلیاں کھانے کو چھوئیں۔کھانے کے بعد انگلیاں چوس لو۔
ماڈرن ازم: کانٹا (تین انگلیوں والا)، چھری اور چمچ کی مثال آپ کے سامنے ہے اور چمچ تو ہر گھر میں کئی کئی استعمال ہوتے ہیں۔ اور اختتام کے لئے ٹشو موجود ہے انگلیاں صاف کرنے کے لئے۔ میں نے ایک مانگنے والی کو دیکھا جس کا بچہ چاول کھا رہا تھا۔ کھانے کے اختتام پر اس نے اپنی پوٹلی میں سے ایک مڑا تڑا ٹشو نکالا، اپنے ہاتھ صاف کیے، بچے کے ہا تھ صاف کیے اور پھر اس کی نوزی صاف کر کے ٹشو واپس پوٹلی میں رکھ دیا۔ یہ ہے دشمن کی فتح۔
اسلام: رسول اللہ ﷺ کا تہبند ہمیشہ ٹخنوں سے اونچا ہوتا اور قمیص گھٹنوں سے نیچے تک۔
ماڈرن ازم: انگریزی لباس آپ سب کا دیکھا بھالا ہے جو کہ اس سنت کے بالکل مخالف ہے اور اب تو بات کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔
اسلام: نبی کریم ﷺ کھجور کے پتوں کی چٹائی پر سوتے تھے یا زمین پر چادر بچھا لیتے۔
ماڈرن ازم: آج ڈبل بیڈ اور میٹرس کے بغیر نیند کی دیوی مہربان ہی نہیں ہوتی۔ ایک دوست نے تو چارپائی پر ہی میٹرس ڈالا ہوا ہے اور زمین پر میٹرس ڈالنے کا تو عام رواج ہے۔ اگر آپ جاپانیوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو وہاں آج بھی عمومی زندگی میں لکڑی کے پھٹے پر سونے کا رواج ہے۔
اسلام: سادہ اور پاکیزہ زندگی اختیار کرو۔
ماڈرن ازم: سادگی اور پاکیزگی کے تو مفہوم سے بھی کم ہی لوگ آگاہ ہوں گے ہاں البتہ ہم صاف ستھرے ضرور نظر آنا چاہتے ہیں اور خوبصورت نظر آنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ خود سوچیئے جہاں انگلش کموڈ اور کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی غلاظتیں موجود ہوں، وہاں پاکیزگی کا کیا تصور ہو گا؟ جہاں لوگ مسجد کے امام سے اپنی عمومی زندگی کے مسائل پوچھتے ہوں، وہ کتنے باعمل مسلمان ہوں گے؟ آج اگر ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آتی تو دشمن نے اس کا بھی انتظام کر دیا ہے۔ انگریزی لکھائی اور ہندی زبان میں انگلش فلمیں، کارٹون، نظمیں اور اسی طرح کا اناپ شناپ بکثرت موجود ہے جس سے اکثرت مستفید ہوتی ہے لیکن سچ بتانا کہ اتنی کوشش اور لگن سے قرآنِ مجید کا ترجمہ و تفسیر کون کون پڑھتا ہے اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کتنے گھروں میں موجود ہیں؟
ایسی بے شمار باتیں ہیں جو میں سوچتا ہوں اس کے علاوہ بھی نہ جانے کیا کیا کچھ مگر
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی؟
آخر میں ایک گزارش کہ خواتین کا خاص خیال رکھیں ( وہ تو آپ رکھتے ہی ہیں، میں جانتا ہوں لیکن میں گھر کی خواتین کی بات کر رہا ہوں) ان کے لئے قرآن و حدیث کا علم بہم پہنچائیں کہ کل آپ کو اس کا جواب دینا ہے چاہے آپ باپ ہیں، شوہر ہیں، بھائی ہیں یا پھر بیٹا۔ خواتین کے حقوق کے بارے میں اسلام میں بے شمار وعیدیں آئیں ہیں۔ اگر دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں سربراہ بنایا ہے تو کل اس سربراہی کا جواب بھی طلب کیا جائے گا۔ اپنا حساب تو دیں گے ہی، ان کا بھی دینا پڑے گا جو ہمارے ذمہ ہیں۔ سو دوستو، ان کے ایمان اور صحت کا بھی خیال رکھیں اور اپنے بچوں کے مستقبل اور آخرت کا بھی۔
اسی فکر میں غلطاں کسی شاعر نے بہت خوبصورت طنز کیا ہے:
لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی
ڈھونڈ لی قوم نے فلاح کی راہ
(مجھے دقیانوسی نہ سمجھئے بلکہ اس بات کو یوں لیجیئے کہ طوفان سے پہلے ہی بند باندھے جاتے ہیں، طوفان آنے پر تو صرف تماشا دیکھا جاتا ہے اور یہ تماشا بھی صرف وہی دیکھ سکتا ہے جو طوفان سے باہر ہو)
کوئی تبصرے نہیں :
ایک تبصرہ شائع کریں