نیت ہر بار یہی ہوتی ہے کہ بات مختصر کروں مگر زورِ گفتار ایسا غضبناک ہے کہ سننے والا بیزار ہو جاتا ہےاور مجھے شرمندگی سی محسوس ہوتی ہے۔ بعد میں خود کو کوستا بھی ہوں اور صدق دل سے تہیہ کرتا ہوں کہ اب کی بار صرف جامع بات کروں گا مگر جیسے ہی کوئی سامع ملتا ہے تو ’’بات چل نکلی ہے، اب دیکھیں کہاں تک پہنچے‘‘
ہوا یوں کہ اگست ۲۰۰۳ میں میری شادی ہوئی اور کچھ ہی دن بعد زوجہ محترمہ نے پوچھا کہ آپ کہیں سے بیعت ہیں؟ میں نے انکار میں سر ہلایا تو خوشی سے بولیں کہ میں بھی کہیں سے بیعت نہیں ہوں ابھی تک۔ کیوں نہ کسی مستند جگہ سے بیعت ہو جائیں۔ میں نے پوچھا کہ آخر بیعت ہونے کی ضرورت کیا ہےاور یہ بیعت کس لئے ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ تو مجھے نہیں پتا لیکن بڑوں سے سنا ہےکہ کسی نہ کسی سے بیعت ہونا ضروری ہےاور بیعت سے انسان سدھر جاتا ہے (یہ نئی بات ہوئی)۔
مجھے اپنے کردار پر کچھ شک سا محسوس ہوا اور میں دل ہی دل میں اپنے چھ سالہ زمانۂ محبت کی فلم دیکھنے لگا لیکن ماسوائے ایک واردات کہ جب میں نے سہانے مستقبل کے تابناک خواب دیکھتے ہوئے آنکھ بچا کے اپنی منگیتر (موجودہ بیگم) کے ہاتھ پر ہاتھ رکھاتھا (جسے انہوں نے بڑی سرعت سے جھٹک دیا تھا)، کےعلاوہ اور کوئی قابلِ اعتراض بات نظر نہ آئی اس فلم میں۔ پھر بھی تسلی کی خاطر میں نے ان سے سوال کر ہی دیا کہ مجھے کتنا سدھرنے کی ضرورت ہے؟ وہ کچھ خفا ہوتے ہوئے بولیں کہ مذاق مت کریں۔ دیکھیں ناں، اگر آپ باقاعدگی سے نماز پڑھنے لگیں گے تو کتنا اچھا ہو گا۔ میں نے کہا ’’اری نیک بخت اس کے لئے بیعت کی نہیں، مسجد جانے کی ضرورت ہے۔ اگر پیر صاحب کے کہنے سے نماز شروع کرنی ہے تو ان سے زیادہ حق میرے والدین کا ہے جو بچپن سے میرے پیچھے لگے ہیں ’سدھارنے‘ کے لئے‘‘۔
بہرحال میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو بلایا جو بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے بھی پرزور تائید کی اور بتایا کہ فلاں پیر صاحب کے اجداد کو نبی کریمﷺ نے خواب میں حکم دیا تھا کہ پنڈی چلے جاؤ لوگوں کی فلاح کے لئے۔ نبی کریمﷺ کی خواب میں بشارت سے میں مطمئن ہو گیا اور ہم بیعت کے لئے چلے گئے۔ بیعت کے لئے کچھ وعدے لئے گئے کہ نماز نہیں چھوڑنی، جھوٹ نہیں بولنا، زنا نہیں کرنا اور شراب نہیں پینی وغیرہ۔ سچی بات ہے کہ میں نے بڑے بوجھل دل سے وعدے کیے کہ بھاگنے کا راستہ نہیں تھا اور پہلے سے یہ علم نہیں تھا کہ وعدہ لیا جائے گا۔
آپ بدگمان مت ہوں، حقیقت میں بات یہ ہے کہ میں قسم اور وعدے کے بارے میں بہت محتاط ہوں۔ الحمدللہ زنا اور شراب سے اللہ پاک نے بچایا ہوا ہے، نماز کی کوشش کرتا ہوں البتہ جھوٹ وہ نابکار چیز ہے جس سے تاحال گلوخلاصی نہ ہو سکی۔ وعدے میں بھی بس یہی بات پریشان کر رہی تھی اور اس سے بڑی الجھن یہ تھی کہ یہ تو اللہ پاک کے احکامات ہیں۔ ان کے بارے میں وعدے کی کیا ضرورت ہے اور میں جن صاحب سے یہ وعدہ کر رہا ہوں، ان کی سیرت کے بارے میں شائد کچھ بھی نہیں جانتا۔ کہیں آخرت میں اس بیعت سے متعلق کسی بات پر پکڑ نہ ہو جائے۔
گھر واپس آئے تو بیگم خوش تھیں لہٰذا ہم بھی خوش ہو گئے مگر ایک تجسس نے دل میں جڑ پکڑ لی کہ آخر بیعت کیوں ضروری ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنےنکلا تو کئی انکشافات ہوئے مثلاً صحابہ کرامؓ نے بھی رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی (چہ جائے اس کے کہ وہ کیا بیعت تھی اور کس مقصد کے لئے تھی)، خلفائے راشدین کے ہاتھ پر مسلمان ان کی خلافت کو تسلیم کرنے کی بیعت کرتے تھے، خلیفۃ المسلمین بھی مسلمانوں سے وفاداری کی بیعت لیتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ سوال پھر بھی قائم رہا کہ ایک آزاد ملک میں مسلمان معاشرے میں، میں کس لئے بیعت کروں اور اس بیعت کی بنیاد کیا ہو؟ یہ حقیقت ہے کہ مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا اور مروجہ بیعت سے متعلق جو بدگمانیاں میرے دل میں جنم لیتی ہیں میں انہیں احاطۂ تحریر میں نہیں لانا چاہتا۔
بات بڑھ گئی ہے غالباً۔ قصہ مختصر (اگر مختصر ہو سکا تو) میں نے حصولِ علم کی جستجو میں بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث مکتب فکر کے لوگوں سے محفل جاری رکھی۔ علماء میں نہ جانے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میرا علم کمزور ہے اور بہکنے کے امکانات زیادہ۔ لفظ ’بہکنے‘ پر معذرت چاہتا ہوں لیکن یہ میری انفرادی سوچ ہے جو غلط بھی ہو سکتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ میں عالم نہیں بلکہ ایک عام مسلمان ہوں اور عوام کی تعداد چونکہ علماء سے کہیں زیادہ ہے لہٰذا مجھے علماء کی کوئی فکر نہیں کیونکہ وہ تو علم رکھتے ہیں کہ آخرت میں کیا ہو گا اور حق کیا ہے۔ مجھے تو ان بے پرواہ اور عاقبت نا اندیش عوام کی فکر ہے جنہوں نے مذہب کا سارا کام علماء کے سپرد سمجھ رکھا ہے اور خود دنیا کو تھامے ہوئے ہیں ۔ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے بچوں کے نام بھی رکھنے ہوں تو مولوی صاحب سے پوچھیں گے، دعا بھی ان سے کرائیں گے، ختم بھی وہی پڑھیں گے، دین کے مسئلے بھی وہی بتائیں گے، ازدواجی پریشانیوں کو بھی وہی سلجھائیں گے، جنازہ بھی وہی پڑھائیں گے، ہمارے بچوں کو قرآن پاک بھی وہی پڑھنا سکھائیں گے؟ تو پھر ہمارا کام کیا ہے؟ ہم کس مرض کی دوا ہیں؟ جنت میں بھی پھر انہی کو بھیج دیں گے اپنی جگہ۔ او بھائی ہمیں تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے۔‘‘
۱ لوگ قرآن پاک کی تلاوت کیوں نہیں کرتے؟
۲ اس عظیم طرزِ حیات کو ترجمہ اور تفسیر سے سمجھ کر اپنی زندگیاں اس کے مطابق کیوں نہیں ڈھالتے؟
۳ نماز کو قائم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ ہر ایک جلدی میں ہے۔ نماز میں بھی شارٹ کٹ
ڈھونڈلئے ہیں اور وضو میں بھی۔ یارو کوئی اہتمام ہی نہیں؟
۴ اپنے گھروں میں رنگین ٹی وی، بہترین فرج، مائیکرو ویو، ڈی وی ڈی پلیئر، کیبل اور انٹرنیٹ تک پہنچا دیا
ہم نے۔ اپنے نابالغ بچوں کے لئے بھی کمپیوٹر کا جاننا ضروری خیال کرتے ہیں۔ مگر ایمانداری سے بتائیے کہ صحاحِ
ستہ میں سے کوئی ایک بھی کتاب کتنے گھروں میں ہے؟ اور کتنی باقاعدگی سے اس کا مطالعہ کیا
جاتا ہے؟اگر آپ ایک دن کےلئےالیکٹرانک میڈیا سے دور رہیں تو کیا حال ہوتا ہے؟ یہ تو نہیں معلوم
لیکن اگر ایک نمازقضا ہو جائے تو کیا ہوگا؟ اس کی ہمیں ایڈوانس خبر دے دی گئی ہے۔
۵ آپ مجھ جیسے کم علم آدمی سے بھی اگر مسلک (بریلوی، دیو بندی، اہلحدیث) کی بات کریں گے تو میں آپ کا
دماغ چاٹ جاؤں گا لیکن اگرغسل کے فرائض پوچھیں گے تو شائد میں نہ بتا سکوں۔
بھائی یہ ہم کن مکاتیبِ فکر کے گرداب میں پھنس گئے؟ کیا ہم سے ان کے بارے میں سوال ہو گا؟ میرا آپ سے سوال ہے کہ جو اللہ کا صریح حکم نہ مانے اسے کیا کہا جائے گا؟ اللہ پاک سورہ اٰلعمران، پارہ چار کے دوسرے رکوع میں فرماتے ہیں:
’’ایمان والو اللہ تعالیٰ سے اتنے ہی ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے، دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔(آیت) اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو اور اللہ کی اس وقت کی نعمت کو یاد رکھو جب کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال کر اپنی مہربانی سے تمہیں بھائی بھائی بنا دیا۔ اورتم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے، اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تا کہ تم راہ پاؤ۔(آیت) تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو بھلائی کی طرف بلاتی رہے اور نیک کاموں کا حکم دیتی رہے اور برے کاموں سے روکتی رہے۔ یہی لوگ فلاح و نجات پانے والے ہیں۔(آیت) تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا، انہی لوگوں کےلئے بڑا عذاب ہے۔(آیت) جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاہ، سیاہ چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیوں کیا۔ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو۔(آیت) اور سفید چہرے والے اللہ کی رحمت میں داخل ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(آیت) اے نبی ہم ان حقانی آیتوں کی تلاوت تجھ پر کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارادہ لوگوں پر ظلم کرنے کا نہیں۔(آیت) اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں۔‘‘ (دوسرا رکوع مکمل ہوا)
براہِ مہربانی اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو ایک بار پھر صدقِ دل سے خلوص کے ساتھ نہایت غور سے پڑھیں، یہ میری آپ سے التجا ہے۔
دوسری التجا یہ ہے کہ کبھی بھی خود کو کسی مسلک سے وابسطہ شمار نہ کریں کیونکہ اللہ پاک بار بار تفرقہ ڈالنے سے منع فرما رہے ہیں۔ چاہے آپ کی نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، آپ ایک فرقہ تو شمار ہوں گے ناں۔ الحمد للہ ہم تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ یہ میری بات نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ تو آئیے ہم سب بھائی مل کر اللہ کا یہ حکم اپنے دوسرے بھائیوں تک پہنچائیں، صرف اللہ کی رضا کی خاطر۔ تاکہ روزِ محشر ہمارے چہرے سفید ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم فلاح یاب ہوں۔ آمین، ثم آمین
ہوا یوں کہ اگست ۲۰۰۳ میں میری شادی ہوئی اور کچھ ہی دن بعد زوجہ محترمہ نے پوچھا کہ آپ کہیں سے بیعت ہیں؟ میں نے انکار میں سر ہلایا تو خوشی سے بولیں کہ میں بھی کہیں سے بیعت نہیں ہوں ابھی تک۔ کیوں نہ کسی مستند جگہ سے بیعت ہو جائیں۔ میں نے پوچھا کہ آخر بیعت ہونے کی ضرورت کیا ہےاور یہ بیعت کس لئے ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ تو مجھے نہیں پتا لیکن بڑوں سے سنا ہےکہ کسی نہ کسی سے بیعت ہونا ضروری ہےاور بیعت سے انسان سدھر جاتا ہے (یہ نئی بات ہوئی)۔
مجھے اپنے کردار پر کچھ شک سا محسوس ہوا اور میں دل ہی دل میں اپنے چھ سالہ زمانۂ محبت کی فلم دیکھنے لگا لیکن ماسوائے ایک واردات کہ جب میں نے سہانے مستقبل کے تابناک خواب دیکھتے ہوئے آنکھ بچا کے اپنی منگیتر (موجودہ بیگم) کے ہاتھ پر ہاتھ رکھاتھا (جسے انہوں نے بڑی سرعت سے جھٹک دیا تھا)، کےعلاوہ اور کوئی قابلِ اعتراض بات نظر نہ آئی اس فلم میں۔ پھر بھی تسلی کی خاطر میں نے ان سے سوال کر ہی دیا کہ مجھے کتنا سدھرنے کی ضرورت ہے؟ وہ کچھ خفا ہوتے ہوئے بولیں کہ مذاق مت کریں۔ دیکھیں ناں، اگر آپ باقاعدگی سے نماز پڑھنے لگیں گے تو کتنا اچھا ہو گا۔ میں نے کہا ’’اری نیک بخت اس کے لئے بیعت کی نہیں، مسجد جانے کی ضرورت ہے۔ اگر پیر صاحب کے کہنے سے نماز شروع کرنی ہے تو ان سے زیادہ حق میرے والدین کا ہے جو بچپن سے میرے پیچھے لگے ہیں ’سدھارنے‘ کے لئے‘‘۔
بہرحال میں نے اپنے چھوٹے بھائی کو بلایا جو بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے بھی پرزور تائید کی اور بتایا کہ فلاں پیر صاحب کے اجداد کو نبی کریمﷺ نے خواب میں حکم دیا تھا کہ پنڈی چلے جاؤ لوگوں کی فلاح کے لئے۔ نبی کریمﷺ کی خواب میں بشارت سے میں مطمئن ہو گیا اور ہم بیعت کے لئے چلے گئے۔ بیعت کے لئے کچھ وعدے لئے گئے کہ نماز نہیں چھوڑنی، جھوٹ نہیں بولنا، زنا نہیں کرنا اور شراب نہیں پینی وغیرہ۔ سچی بات ہے کہ میں نے بڑے بوجھل دل سے وعدے کیے کہ بھاگنے کا راستہ نہیں تھا اور پہلے سے یہ علم نہیں تھا کہ وعدہ لیا جائے گا۔
آپ بدگمان مت ہوں، حقیقت میں بات یہ ہے کہ میں قسم اور وعدے کے بارے میں بہت محتاط ہوں۔ الحمدللہ زنا اور شراب سے اللہ پاک نے بچایا ہوا ہے، نماز کی کوشش کرتا ہوں البتہ جھوٹ وہ نابکار چیز ہے جس سے تاحال گلوخلاصی نہ ہو سکی۔ وعدے میں بھی بس یہی بات پریشان کر رہی تھی اور اس سے بڑی الجھن یہ تھی کہ یہ تو اللہ پاک کے احکامات ہیں۔ ان کے بارے میں وعدے کی کیا ضرورت ہے اور میں جن صاحب سے یہ وعدہ کر رہا ہوں، ان کی سیرت کے بارے میں شائد کچھ بھی نہیں جانتا۔ کہیں آخرت میں اس بیعت سے متعلق کسی بات پر پکڑ نہ ہو جائے۔
گھر واپس آئے تو بیگم خوش تھیں لہٰذا ہم بھی خوش ہو گئے مگر ایک تجسس نے دل میں جڑ پکڑ لی کہ آخر بیعت کیوں ضروری ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنےنکلا تو کئی انکشافات ہوئے مثلاً صحابہ کرامؓ نے بھی رسول اللہﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی (چہ جائے اس کے کہ وہ کیا بیعت تھی اور کس مقصد کے لئے تھی)، خلفائے راشدین کے ہاتھ پر مسلمان ان کی خلافت کو تسلیم کرنے کی بیعت کرتے تھے، خلیفۃ المسلمین بھی مسلمانوں سے وفاداری کی بیعت لیتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ سوال پھر بھی قائم رہا کہ ایک آزاد ملک میں مسلمان معاشرے میں، میں کس لئے بیعت کروں اور اس بیعت کی بنیاد کیا ہو؟ یہ حقیقت ہے کہ مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا اور مروجہ بیعت سے متعلق جو بدگمانیاں میرے دل میں جنم لیتی ہیں میں انہیں احاطۂ تحریر میں نہیں لانا چاہتا۔
بات بڑھ گئی ہے غالباً۔ قصہ مختصر (اگر مختصر ہو سکا تو) میں نے حصولِ علم کی جستجو میں بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث مکتب فکر کے لوگوں سے محفل جاری رکھی۔ علماء میں نہ جانے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میرا علم کمزور ہے اور بہکنے کے امکانات زیادہ۔ لفظ ’بہکنے‘ پر معذرت چاہتا ہوں لیکن یہ میری انفرادی سوچ ہے جو غلط بھی ہو سکتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ میں عالم نہیں بلکہ ایک عام مسلمان ہوں اور عوام کی تعداد چونکہ علماء سے کہیں زیادہ ہے لہٰذا مجھے علماء کی کوئی فکر نہیں کیونکہ وہ تو علم رکھتے ہیں کہ آخرت میں کیا ہو گا اور حق کیا ہے۔ مجھے تو ان بے پرواہ اور عاقبت نا اندیش عوام کی فکر ہے جنہوں نے مذہب کا سارا کام علماء کے سپرد سمجھ رکھا ہے اور خود دنیا کو تھامے ہوئے ہیں ۔ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے بچوں کے نام بھی رکھنے ہوں تو مولوی صاحب سے پوچھیں گے، دعا بھی ان سے کرائیں گے، ختم بھی وہی پڑھیں گے، دین کے مسئلے بھی وہی بتائیں گے، ازدواجی پریشانیوں کو بھی وہی سلجھائیں گے، جنازہ بھی وہی پڑھائیں گے، ہمارے بچوں کو قرآن پاک بھی وہی پڑھنا سکھائیں گے؟ تو پھر ہمارا کام کیا ہے؟ ہم کس مرض کی دوا ہیں؟ جنت میں بھی پھر انہی کو بھیج دیں گے اپنی جگہ۔ او بھائی ہمیں تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے۔‘‘
۱ لوگ قرآن پاک کی تلاوت کیوں نہیں کرتے؟
۲ اس عظیم طرزِ حیات کو ترجمہ اور تفسیر سے سمجھ کر اپنی زندگیاں اس کے مطابق کیوں نہیں ڈھالتے؟
۳ نماز کو قائم کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ ہر ایک جلدی میں ہے۔ نماز میں بھی شارٹ کٹ
ڈھونڈلئے ہیں اور وضو میں بھی۔ یارو کوئی اہتمام ہی نہیں؟
۴ اپنے گھروں میں رنگین ٹی وی، بہترین فرج، مائیکرو ویو، ڈی وی ڈی پلیئر، کیبل اور انٹرنیٹ تک پہنچا دیا
ہم نے۔ اپنے نابالغ بچوں کے لئے بھی کمپیوٹر کا جاننا ضروری خیال کرتے ہیں۔ مگر ایمانداری سے بتائیے کہ صحاحِ
ستہ میں سے کوئی ایک بھی کتاب کتنے گھروں میں ہے؟ اور کتنی باقاعدگی سے اس کا مطالعہ کیا
جاتا ہے؟اگر آپ ایک دن کےلئےالیکٹرانک میڈیا سے دور رہیں تو کیا حال ہوتا ہے؟ یہ تو نہیں معلوم
لیکن اگر ایک نمازقضا ہو جائے تو کیا ہوگا؟ اس کی ہمیں ایڈوانس خبر دے دی گئی ہے۔
۵ آپ مجھ جیسے کم علم آدمی سے بھی اگر مسلک (بریلوی، دیو بندی، اہلحدیث) کی بات کریں گے تو میں آپ کا
دماغ چاٹ جاؤں گا لیکن اگرغسل کے فرائض پوچھیں گے تو شائد میں نہ بتا سکوں۔
بھائی یہ ہم کن مکاتیبِ فکر کے گرداب میں پھنس گئے؟ کیا ہم سے ان کے بارے میں سوال ہو گا؟ میرا آپ سے سوال ہے کہ جو اللہ کا صریح حکم نہ مانے اسے کیا کہا جائے گا؟ اللہ پاک سورہ اٰلعمران، پارہ چار کے دوسرے رکوع میں فرماتے ہیں:
’’ایمان والو اللہ تعالیٰ سے اتنے ہی ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے، دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔(آیت) اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو اور اللہ کی اس وقت کی نعمت کو یاد رکھو جب کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال کر اپنی مہربانی سے تمہیں بھائی بھائی بنا دیا۔ اورتم آگ کے گڑھے کے کنارے پہنچ چکے تھے، اس نے تمہیں بچا لیا۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تا کہ تم راہ پاؤ۔(آیت) تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو بھلائی کی طرف بلاتی رہے اور نیک کاموں کا حکم دیتی رہے اور برے کاموں سے روکتی رہے۔ یہی لوگ فلاح و نجات پانے والے ہیں۔(آیت) تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا، انہی لوگوں کےلئے بڑا عذاب ہے۔(آیت) جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاہ، سیاہ چہرے والوں (سے کہا جائے گا) کہ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیوں کیا۔ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو۔(آیت) اور سفید چہرے والے اللہ کی رحمت میں داخل ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(آیت) اے نبی ہم ان حقانی آیتوں کی تلاوت تجھ پر کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارادہ لوگوں پر ظلم کرنے کا نہیں۔(آیت) اللہ ہی کے لئے ہے جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں۔‘‘ (دوسرا رکوع مکمل ہوا)
براہِ مہربانی اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو ایک بار پھر صدقِ دل سے خلوص کے ساتھ نہایت غور سے پڑھیں، یہ میری آپ سے التجا ہے۔
دوسری التجا یہ ہے کہ کبھی بھی خود کو کسی مسلک سے وابسطہ شمار نہ کریں کیونکہ اللہ پاک بار بار تفرقہ ڈالنے سے منع فرما رہے ہیں۔ چاہے آپ کی نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، آپ ایک فرقہ تو شمار ہوں گے ناں۔ الحمد للہ ہم تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ یہ میری بات نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ تو آئیے ہم سب بھائی مل کر اللہ کا یہ حکم اپنے دوسرے بھائیوں تک پہنچائیں، صرف اللہ کی رضا کی خاطر۔ تاکہ روزِ محشر ہمارے چہرے سفید ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم فلاح یاب ہوں۔ آمین، ثم آمین